ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پسماندہ طبقات کے سماجی اور معاشی سروے کی سفارشات نافذ کرنے سدارامیا اور ایشورپاکا زور

پسماندہ طبقات کے سماجی اور معاشی سروے کی سفارشات نافذ کرنے سدارامیا اور ایشورپاکا زور

Mon, 19 Oct 2020 13:46:30    S.O. News Service

بنگلورو،19؍اکتوبر(ایس او نیوز) کرناٹک میں پسماندہ طبقات کے سماجی و معاشی سروے کے بعد حکومت کو ان طبقات کی ترقی کیلئے جو سفارشات پیش کی گئی ہیں، ان کے نفاذ کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالنے پر کرناٹکا پسماندہ طبقات فیڈریشن نے تبادلہ خیال کیا۔

سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سدارامیا، وزیر برائے دیہی ترقیات و پنچایت راج کے ایس ایشورپا اور رکن کونسل ایچ ایم ریونا سمیت پسماندہ طبقات سے وابستہ مختلف مٹھوں کے سربراہان اور دیگر قائدین نے اس سلسلے میں منعقدہ اجلاس میں حصہ لیا۔ریاستی وزیر کے ایس ایشورپا نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اپنے دورِ اقتدار میں پسماندہ طبقات کے سماجی اور معاشی سروے کا کام انجام دیا تھا، اسی وقت ریاست کے مستقل پسماندہ طبقات کمیشن کے چیرمین کانت راج نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردی تھی۔ لیکن بد قسمتی سے سدارامیا حکومت اور اس کے بعد کانگریس و جے ڈی ایس مخلوط حکومت کے دور میں اس رپورٹ کو عملی شکل دینے کیلئے کوئی کارروائی نہیں ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ اب ریاست میں برسر اقتدار حکومت پر یہ دباؤ ڈالا جائے کہ اس رپورٹ کو عملی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزیر برائے پسماندہ طبقات سری راملو نے حالیہ لجس لیٹیو کونسل اجلاس کے دوران یہ تیقن کروایا تھا کہ حکومت پسماندہ طبقات کمیشن کی رپورٹ کو نافذ کرنے کے تئیں سنجیدہ ہے۔سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں جد وجہد کا اعلان کرتے ہوئے ایشورپا نے کہا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر پسماندہ طبقات کے سبھی قائدین اس رپورٹ کے نفاذ کی جدوجہد کریں گے۔

اس موقع پر سدارامیا نے کہا کہ پسماندہ طبقات کے سماجی اور معاشی سروے کی مخالفت کس نے کی تھی، اس سے ہر کوئی واقف ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کی 73ویں اور74ویں ترمیم کے مطابق پسماندہ طبقات کو مختلف مرحلوں میں ریزر ویشن دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ریاست میں منڈل کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر ایک پسماندہ طبقات کمیشن قائم ہونا چاہئے۔ ریزرویشن کے تحت پسماندہ طبقات کیلئے جتنی بھی سرکاری اسامیاں ہیں وہ ان کیلئے ہمیشہ خالی رکھنی ہوں گی اور صرف انہیں طبقات سے وابستہ امیدواروں سے ان کو پُر کیا جائے۔ سدارامیا نے کہا کہ ملک میں پسماندہ طبقات کا سماجی اور معاشی سروے 1931ء کے دوران ہوا تھا، اس کے بعد ان کی حکومت نے 2015ء کے دوران یہ سروے کروایا اور رپورٹ بھی پیش کردی گئی تھی، بدقسمتی سے ان کے اقتدار کی مدت ختم ہوگئی جس کے سبب رپورٹ کو عملی شکل نہ دیا جاسکا۔انہوں نے کہا کہ دوبارہ اگر انہیں ریاست کے اقتدار پر آنے کا موقع ملتا تو اس رپورٹ میں شامل سفارشات کے ذریعہ پسماندہ طبقات کی ترقی کیلئے ضروری قدم اٹھاتے۔


Share: